میں نے یوں ہی نہیں یہ اجالے کیے
خود کو اِک بھڑکتی آگ میں جلایا ہے
سائے جو تم دیکھ رہے ہو اِن آنکھوں سے
ہر ایک درخت اپنے ہاتھوں سے لگایا ہے
میں نہیں گیا، وہ گیا تھا مجھے چھوڑ کر
میں نے مانا تھا، خدا نے میرے لیے بنایا ہے
اچھا، اب کیسا سفر باقی ہے ابھی کرنے کو
میں نے بڑی مشکل سے رہنے کو گھر بنایا ہے